Description
پدرم حکیم بود
محض ایک سوانح عمری نہیں، بلکہ ایک بیٹی کی طرف سے اپنے عظیم والد، حکیم انقلاب صابر ملتانی رح، کو پیش کیا گیا ایک علمی و جذباتی خراجِ تحسین ہے۔ یہ کتاب ان لاکھوں مداحوں کی پیاس بجھاتی ہے جو حکیم صاحب کے "نظریہ مفرد اعضاء” سے تو واقف تھے لیکن ان کی ذاتی زندگی، خانگی معمولات اور روحانی کیفیات سے ناآشنا تھے۔ 332 صفحات پر مشتمل یہ کتاب قاری کو حکیم صاحب کے بچپن، جوانی، سفرِ حج کی روحانیت اور ان کے خطوط کے ذریعے ان کی فکر کے قریب لے جاتی ہے۔ سلمیٰ علی خان کا اسلوبِ بیان اتنا دلنشین ہے کہ قاری خود کو اس دور کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے جہاں علم، ادب اور احترام کی خوشبو رچی بسی ہے۔











Reviews
There are no reviews yet.